پنجاب،23/جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو پر نشانہ لگاتے ہوئے پنجاب کے لدھیانہ میں پوسٹر لگائے گئے ہیں۔پکھووال روڈ پر لگائے گئے ان پوسٹروں میں سدھو کے سیاست چھوڑنے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔دراصل سدھو نے کہا تھا کہ اگر لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی امیٹھی سے ہارے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے سدھو کو کیا پتہ تھا کہ مودی لہر میں راہل گاندھی امیٹھی سے الیکشن ہار جائیں گے جسے گاندھی خاندان کا سب سے مضبوط گڑھ کہا جاتا ہے۔وہیں راہل گاندھی امیٹھی سے بی جے پی لیڈر اسمرتی ایرانی سے 55,120ووٹوں سے الیکشن ہار گئے تھے۔سدھو کے اسی بیان کو بنیاد بنا کر موہالی میں پوسٹر لگائے گئے تھے۔انگریزی اور پنجابی میں لگائے گئے پوسٹروں میں لکھا تھاکہ آپ سیاست کب چھوڑ رہے ہیں۔وقت آ گیا ہے اب آپ بات رکھیں۔ہم آپ کے استعفی کا انتظار کر رہے ہیں۔آپ کو بتا دیں کہ لوک سبھا انتخابی نتائج کے بعد بھی نوجوت سنگھ سدھو اپنے اسی بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ٹرول ہوئے تھے۔انہیں کافی تنقید بھی جھیلنی پڑی تھی۔غور طلب ہے کہ راہل گاندھی کو مودی حکومت میں وزیر اسمرتی ایرانی نے 55 ہزار 120 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔اس سے پہلے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی کو 408,651ووٹ ملے تھے جبکہ بی جے پی امیدوار اسمرتی ایرانی کو 300,748ووٹ ملے تھے۔تب کانگریس صدر نے مرکزی وزیر کو 1,07,000ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔راہل گاندھی امیٹھی سے مسلسل تین بار ایم پی رہے۔انہوں نے 2009 میں یہ سیٹ 3,50,000سے بھی زیادہ ووٹوں سے جیتی تھی۔کانگریس صدر یہاں سے پہلی بار 2004 میں منتخب ہوکر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔